طلاق حسن

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ فقہ ]  تین مختلف طہروں میں متفرق کر کے تین طلاقیں دینا۔ اسے طلاق سنت بھی کہتے ہیں۔ "غیر موطؤ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاقِ احسن ہے۔"      ( ١٩١١ء، تفسیر القرآن الحکیم، مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٨٩٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طلاق' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی اسم 'حسن' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٧ء کو "نورالہدایہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ فقہ ]  تین مختلف طہروں میں متفرق کر کے تین طلاقیں دینا۔ اسے طلاق سنت بھی کہتے ہیں۔ "غیر موطؤ عورت یعنی جس سے شوہر نے قربت نہ کی ہو اس کو ایک طلاق دینا طلاقِ احسن ہے۔"      ( ١٩١١ء، تفسیر القرآن الحکیم، مولانا نعیم الدین مراد آبادی، ٨٩٠ )

جنس: مؤنث